لاہور(کورٹ نیوز )لاہور ہائیکورٹ نے لیبیا کشتی حادثہ کیس میں گرفتار ملزم محمد طاہر کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔جسٹس امجد رفیق نے 10 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا، حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ انسانی سمگلنگ جیسے بین الاقوامی جرائم کی تحقیقات محض شکوک و شبہات کی بنیاد پر نہیں چل سکتیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی اے کو بیرونِ ملک شواہد کے حصول اور بین الاقوامی اداروں سے قانونی تعاون حاصل کرنا چاہیے تھا۔حکم نامے کے مطابق واٹس ایپ چیٹس، کال ریکارڈ، بینک ریکارڈ، سفری دستاویزات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے کہا کہ تحقیقات کا معیار ایسا ہونا چاہیے جو ملزم کے فعال کردار کو قانونی طور پر ثابت کر سکے، انسانی سمگلنگ سے مثر انداز میں نمٹنے کے لیے قوانین میں اصلاحات، مثر تفتیش اور مضبوط قانون سازی ناگزیر ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ صرف بینک اکاﺅ نٹ میں رقم منتقل ہونا انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں، جبکہ محض شبہ، قیاس آرائی یا بینک ٹرانزیکشن انسانی سمگلنگ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔لاہور ہائیکورٹ نے ملزم محمد طاہر کو 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔