اسلام آباد(ایجوکیشن رپورٹر)وفاقی دارالحکومت میں نجی تعلیمی اداروں میں اولیول کی کتاب دی ہسٹری اینڈ کلچر آف پاکستان پر پابندی عائد کر دی گئی۔ آئی سی ٹی پیرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام نجی اسکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مذکورہ کتاب کو فوری طور پر نصاب سے نکال دیا جائے اور لائبریری یا کلاس رومز سے بھی ہٹا دیا جائے۔آئی سی ٹی پیرا نے واضح کیا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے این او سی کے بغیر کوئی بھی کتاب نصاب میں شامل نہیں کر سکتے۔
اس اقدام کا مقصد نصاب میں شامل کتابوں کے معیار اور مواد کی نگرانی کو یقینی بنانا ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو فراہم کی جانے والی معلومات تعلیمی معیار اور قانونی حدود کے مطابق ہوں۔ اس سلسلے میں تعلیمی اداروں میں پابندی شدہ کتاب کی موجودگی کی جانچ کےلئے سرپرائز انسپکشن ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو وقتا فوقتا اسکولوں کا دورہ کر کے پابندی کی خلاف ورزی کا جائزہ لیں گی۔آئی سی ٹی پیرا نے واضح کیا کہ ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
اس کا مقصد تعلیمی اداروں میں پابندی کے نفاذ کو یقینی بنانا اور کسی بھی ادارے کو قانون کی خلاف ورزی کرنے سے روکنا ہے۔ اسکول انتظامیہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ طلبہ اور اساتذہ کو اس فیصلے کے بارے میں آگاہ کریں اور پابندی شدہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ہٹا دیں۔اس کے علاوہ، انتظامیہ نے ملک بھر کی بک شاپس پر بھی چھاپے مارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ این او سی کے بغیر کسی بھی بک شاپ میں مذکورہ کتاب کی فروخت ممنوع قرار دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ عوامی سطح پر بھی پابندی شدہ کتاب کی دستیابی کو ختم کیا جا سکے اور تعلیمی اداروں میں نصاب کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔اس پابندی کے بعد تمام نجی اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد اس پر عمل درآمد کریں اور سرپرائز انسپکشن ٹیموں کے دوروں کےلئے تیار رہیں تاکہ تعلیمی اداروں میں قانون کے مطابق ماحول قائم رہے اور طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔