لاہور (کامرس ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو عوام دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں نے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام پر ایک اور پٹرول بم گرا دیا ہے، پٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے نے عام آدمی کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔
انہوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول کی نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر مقرر ہونے کے بعد ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا، جس کا براہ راست بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔ موجودہ فارم 47 کی پیداوار حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی و گیس کے بھاری بلوں اور ٹیکسوں نے لوگوں کی کمر توڑ رکھی ہے، اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے لے کر اشیائے خوردونوش تک ہر چیز مزید مہنگی ہو جائے گی۔ دیہاڑی دار مزدور، سرکاری ملازمین، پنشنرز اور کم آمدن والے طبقات شدید ذہنی دباؤ اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ لوگوں کی برداشت جواب دے چکی ہے اور حکمرانوں نے عملاً عوام سے خوشیاں بھی چھین لی ہیں۔جاوید قصوری نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرتے ہوئے پٹرول 250 روپے فی لیٹر پر لائے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے اور وہ سکھ کا سانس لے سکیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا بوجھ ہمیشہ پاکستانی عوام پر ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ حکمران طبقہ اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کو تیار نہیں۔ اگر حکمران اپنی مراعات، پروٹوکول اور غیر ضروری اخراجات کم کریں تو عوام کو بڑا ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب نے آئندہ وفاقی بجٹ کے حوالے سے بھی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ موجودہ حالات میں تنخواہ دار طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے اور مہنگائی کی موجودہ شرح میں معمولی اضافہ کسی صورت کافی نہیں ہوگا۔ عوام دشمن معاشی پالیسیوں نے ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا ہے، جبکہ جماعت اسلامی ہر فورم پر عوام کے حقوق کی آواز بلند کرتی رہے گی۔