گوادر

پاکستان،ایران ٹرانزٹ منظوری سے گوادر کی تجارتی اہمیت میں اضافہ

لاہور( کامرس ڈیسک)پاکستان کی جانب سے اپنے علاقے کے ذریعے ایران تک سامان کی ترسیل کی منظوری کے بعد گوادر کی حیثیت ایک اہم علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر مزید مضبوط ہو گئی ہے جو مشرقِ وسطی، وسطی ایشیا ء اور جنوبی ایشیا ء تک پھیل گیا ہے۔

ٹرانزٹ آف گڈز تھرو پاکستان آرڈر 2026 کے نفاذ کے مطابق نئی راہداریوں کا تعین کیا گیا ہے جن میں گوادر، کراچی اور تفتان کو ٹرانزٹ کارگو کی نقل و حرکت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ایران سے متصل گوادر مضبوط زمینی رابطوں کا حامل ہے۔ چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کے مطابق گوادر کی گہرے پانیوں پر مشتمل اور برف سے پاک بندرگاہ کنٹینرز، بلک کارگو اور گودام کی سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ بحری خدمات بھی مہیا کرتی ہے۔

گوادر فری زون صنعتی پیداوار کے ساتھ ساتھ زراعت، لائیو اسٹاک، جنگلات اور ماہی گیری سے متعلقہ صنعتوں کو بھی فروغ دیتا ہے۔کمپنی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پیچیدہ اور غیر یقینی عالمی حالات میں بین الاقوامی اقتصادی روابط کو چیلنجز درپیش ہیںتاہم ادارہ اپنے شراکت داروں کو بہتر پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ بیان میں اداروں اور کاروباری حلقوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ گوادر بندرگاہ کی پالیسی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دیں اور علاقائی اقتصادی ترقی میں کردار ادا کریں۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں