اسلام آباد(مخبر نیوز)پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے تحریک انصاف کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عدم شرکت کے فیصلے کو سراہا ہے۔ ایک انٹرویو میں سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ہمارا قومی سلامی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ بالکل درست تھا، جیل ملاقات میں عمران خان بھی ہمارے فیصلے کی تائید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان جیل میں ہر معاملے پر مکمل طور پرآگاہ ہوتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں جیل میں انہیں تمام معلومات دیتی ہیں، ہمیں بانی سے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے متعلق مشاورت نہیں کرنے دی گئی، اے پی سی کے بجائے بند کمرہ اجلاس کا فیصلہ اصولی طورپرغلط تھا۔سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ بند کمرے میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ اچانک کیا گیا، اس صورتحال میں ہمارے پاس کسی سے بھی مشاورت کر نے کا موقع نہیں تھا، اپوزیشن نے مشاورت کے بعد مشترکہ طور پر اجلاس میں شرکت نہ کرنےکا فیصلہ کیا۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر ہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہو بھی جاتے تو بھی حکومت نے فیصلے اپنی مرضی کے ہی کرنے تھے ، ملٹری آپریشن کی ضرورت محدود سطح پرہوسکتی ہے، مولانا فضل الرحمان کی جانب سے بڑے ملٹری آپریشن کی مخالفت درست قدم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور تمام جماعتوں کوشامل کیا جائے، اب بھی وقت ہے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے ، اگلے چند دنوں میں بہت بڑا اپوزیشن اتحاد بننے جارہا ہے، پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ بالکل درست تھا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں متنازع شقیں نکالنے میں مولانا کا کردارشامل تھا،ڈیل کی سیاست سے ہمیشہ پاکستان کونقصان پہنچا، ڈیل کے عمل نے سیاسی خلاءکوختم کیا ہے، ہم جمہوری عمل کے ذریعے سیاسی سپیس کو واپس لیں گے، عمران خان اصولی سیاست کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہی بانی عوام میں دیگر سیاستدانوں سے زیادہ مقبول ہیں