اسلام آباد( مخبر نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عمران خان کو شامل نہ کرنا انتہائی غلط اقدام ہے،کیا ملک کو 1971 کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔دارالحکومت کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ،کے پی کے اور بلوچستان کے دہشت گردی سے متاثرہ ممبران اسمبلی کو اس اجلاس میں شریک نہیں کیا جا رہا۔
وہ کے پی کے ہاﺅس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر جبر کا قانون چل رہا ہے۔مسلم لیگ ن کے پاس صرف 17 جماعتیں تھی اور اس کو حکومت مل گئی۔تحریک انصاف نے عام انتخابات میں 8 فروری کو 220 سے زائد نشستیں قومی اسمبلی کی حاصل کی تھیں۔مگر جبر کی بنیاد پر انتخابی نتائج کو تبدیل کیا گیا۔
انہوں نے کہا قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے اور اس میں کے پی کے اور بلوچستان کے دہشت گردی سے متاثر ہونے والے اضلاع کے ممبران اسمبلی کو صرف اس وجہ سے دعوت نہیں دی گئی کہ وہ تحریک انصاف کے لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اگر کامیاب بنانا ہے تو اس میں عمران خان کو شرکت کی اجازت دی جائے یا پھر تحریک انصاف کے لوگوں کی عمران خان کے ساتھ ملاقات کرائی جائے۔
اگر عمران خان نے کہا کہ اس اجلاس میں شرکت کریں تو ہم بھرپور کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پر تمام کیسز بے بنیاد اور جھوٹے بنائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پر تمام بنائے جانے والے کیسز بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔