پشاور(مخبر نیوز)پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ ہم گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانا چاہتے ہیں،تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف ) کے مابین اس معاملے پر بڑی پیش رفت ہوئی ہے،مولانا فضل الرحمن کے گرینڈ الائنس پر خدشات دور کیے جاسکتے ہیں ،یہ بات کہنا غلط ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت دہشت گردی سے غافل ہے ، فیک اکاﺅنٹس کوہماری سوشل میڈیا آفیشل ٹیم کے بچوں سے منسوب کیا جارہا ہے۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے پشاو ر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ جس طرح سے ہمارے بچے اٹھائے گئے یہ قابل مذمت ہے، آپ نے قانون وآئین کا تماشا بنایا ہوا ہے، آج نوجوانوں کے ساتھ ضد لگا کربیٹھ گئے ہیں وہ آپ کو مان لیں، نوجوانوں کو اپنے حقوق کا پتا ہے، جن لوگوں نے بانی کا پیغام گھر گھر پہنچایا یہ وہی نوجوان تھے۔
انہوں نے کہا کہ جو آپ کے ایجنڈے پر نہیں چلتا آپ اس کو انتشاری اورہندوستان کے ساتھ نہیں ملا سکتے، جو بچے اغوا ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، یہ بچے پاکستانی ہیں اور ملک کا مستقبل ہیں، آپ اپنے اورقوم کیلئے مسائل پیدا نہ کریں، دہشتگردی کے مسئلے پر ڈیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ قوم جب اکٹھی ہوکر اداروں کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے تو دشمن کے خلاف زیادہ اعتماد سے لڑاجاتا ہے، یہ جعلی حکومت ہے، یہ ملک کسی کو برباد کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، قوم کے بچوں کے ساتھ مت لڑیں، اپنے کردار سے ثابت کریں کہ آپ قوم کو اکٹھا کرنا چاہتے ہیں، قوم اکٹھی ہوگی تو مسائل کا حل نکلے گا۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آپ کل کے بچوں کو سوشل میڈیا اکاﺅنٹس پر ٹویٹ کرنے پر اٹھا رہے ہیں، اغوا ہونے والے5 بچوں میں ہمارے سوشل میڈیا ونگ کے لوگ بھی شامل ہیں، ان بچوں کا پتا نہیں چل رہا کہ کہاں ہیں، مجھ پر کئی درجن مقدمات ہیں، یہ جھوٹی ایف آئی آرز کے بادشاہ ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا ، بانی عمران خان کے کہنے پر گرینڈ اپوزیشن الائنس کام کر رہے ہیں اور جلد کامیابی ملے گی۔
کہ ہم گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانا چاہتے ہیں، ہمارے وفود جماعت اسلامی کو بھی ملے ، کراچی میں جی ڈی اے کو بھی مل کر آئے، ہم عید کے بعد گرینڈالائنس کی شکل میں احتجاج کرنا چاہتے ہیں، پرامن احتجاج ہمارا آئینی حق ہے، بانی سے ملنے نہیں دیا جارہا، مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں چیزیں سے پہلے سے بہتر ہیں۔ جن خدشات کا مولانا فضل الرحمن نے اظہار کیا، انہیں دور کیا جاسکتا ہے، دونوں جماعتیں مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرسکتی ہیں۔شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان 590 دن سے بے گناہ قید ہیں، ان پر جعلی مقدمات بنائے گئے، قائد اعظم کے پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے عمران خان کو قید کیا گیا، کیا قائد اعظم نے پاکستان اس لیے بنایا تھا کہ فسطائیت ہو، ظلم اور جبر ہو؟، طاقت سے آوازوں کو نہیں دبایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپریل 2022 سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، حکمرانوں نے اس ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، ملک کا فائدہ اسی میں ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے، اب شہری بیدار ہوگئے ہیں اور انہیں علم ہے کہ کون سی خبر کہاں سے فیڈ ہو رہی ہے؟ سوشل میڈیاپر بات کرنے والوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں دیگر مسائل ہیں ان پر توجہ دی جائے، دہشت گردی کے خلاف کام کیا جائے، اس جعلی حکومت کو کوئی پروا نہیں کہ اس ملک کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، ہم ان جعلی حکمرانوں کو ملک کو نقصان نہیں پہنچانے دیں گے، ہمارے کارکنوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو ایسے اغوا کرنا قابل مذمت ہے۔شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ یہ بات کہنا غلط ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت دہشت گردی سے غافل ہے، پولیس دہشت گردی کے خلاف موجودہ وسائل میں رہ کر خدمات انجام دے رہی ہے