برسلز (مخبر نیوز )امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہائوس میں ہونے والی ملاقات تلخ کلامی میں بدلنے کے بعد یورپی دارلحکومتوں کے مقابلے میں امریکی موقف زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی ممالک اس بات کے خواہش مند ہیں کہ جنگ کے تصفیے سے متعلق معاہدے میں یوکرین کی سلامتی کو بھی کسی ایسے معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔
عوامی سطح پر پیدا ہونے والا یہ بحران اب نیٹو میں شامل یورپی ممالک اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والے کشیدہ حالات کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو سکیورٹی کی ضمانت دینا امریکہ کی نہیں یورپ کی ذمہ داری ہے، چاہتے ہیں امریکہ یوکرین کی مدد بند نہ کرے۔
ادھر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس نے کہا کہ ہم یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔یوکرین یورپ کے ساتھ ہے۔ دوسری جانب فرانس، جرمنی، فن لینڈ اور نیدرلینڈز سمیت یورپی ملکوں کے عہدیداروں نے سوشل میڈیا پر یوکرین کی حمایت کا اظہار کیا۔