جنیداکبرخان

حکومت چیئرمین پی اے سی کیلئے میرے نام پر راضی نہیں تھی، ڈیڈلاک ختم کرنے میں اسپیکر نے کردار ادا کیا،جنیداکبرخان

اسلام آباد (مخبر نیوز ) چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی جنید اکبر خان نے کہا ہے کہ کہ حکومت چیئرمین پی اےسی کیلئے میرے نام پر راضی نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی وزیراعظم تھے تو کھل کر مخالفت کرتا تھا، پارٹی میں سب لوگ جانتے ہیں کہ میں کیسا ہوں۔ایک انٹرویو میں چیئرمین پی اے سی کاکہنا تھاکہ پاکستان تحریک انصاف میں کوئی گروپ بندی نہیں، گنڈاپور پر بطور وزیراعلی بہت ذمہ داریاں ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ کے پی میں امن وامان کی صورتحال سے متعلق ذمہ داریاں ہیں، بانی پی ٹی آئی سے پارٹی ممبران کوآسانی سے ملنے دیاگیا، 6لوگ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کےلئے گئے، 6میں سے5افرادکوبانی سے ملنے دیا گیا،مجھے روک دیا گیا۔جنید اکبر نے کہا کہ جیل انتظامیہ سے گلہ نہیں،سب کوپتہ ہے کون ملنے نہیں دیتا، بانی پی ٹی آئی نے ملاقات کےلئے میرانام بھی دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں کس کا کس کے ساتھ رابطہ ہے یہ معلوم نہیں، بانی سے ملاقات نہ ہونے پر پارٹی میں کسی سے شکوہ نہیں۔چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے کہا کہ ایک سے ڈیڑھ ماہ قبل صوبائی صدر سے متعلق پتہ چل گیا تھا، ذہنی طور پر پارٹی صدر کی ذمہ داری سنبھالنے کو تیار نہیں تھا اور میری ذاتی خواہش نہیں تھی کہ کے پی کاپارٹی صدر بنوں۔

انھوں نے بتایا کہ چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی بننے کی بھی خواہش نہیں تھی، پارٹی کو تجویز دی تھی شیخ وقاص کا نام دیں تو وکیل کے ذریعے معلوم ہواکہ میرانام پی اےسی چیئرمین کیلئے دیا گیا ہے۔جنید اکبر کا کہنا تھا کہ حکومت چیئرمین پی اےسی کیلئے میرے نام پرراضی نہیں ہورہی تھی، حکومت پہلے میرے نام پرراضی نہیں ہورہی ،لیکن چیئرمین پی اے سی کیلئے ڈیڈلاک ختم کرنے میں اسپیکر نے کردار ادا کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ اب بھی سمجھتاہوں چیئرمین پی اےسی شیخ وقاص کودینی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں