ایس ایس پی آپریشنز

خواتین کو ہراساں کرنے کا الزام ، ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی معطل

بحریہ ٹاؤن سفاری ہومز میں ایک اعلیٰ پولیس افسر کے حکم پر روات پولیس کی جانب سے دو خواتین کو ان کے گھر میں غیر قانونی طور پر محبوس کرنے اور ہراساں کرنے کے خوفناک و شرمناک واقعہ کو عوام بھلا نہ پائی تھی کہ ایک اور سینئر پولیس افسر ایس ایس پی آپریشنز عامر خان نیازی کی جانب سے اپنی ہی زنانہ پی ایس پی کولیگز کو ہراساں کرنے کی خبر نے نہ صرف پنجاب پولیس بلکہ پوری دنیا میں تھرتھلی مچا دی۔

تھانہ بنی کے محرر کفیل سے سالم بکرے و دنبے بطور رشوت لے کر جم میں باڈی بنانے والے اور اپنی ہی پی ایس پی زنانہ کولیگز کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے کرپٹ ایس ایس پی آپریشنز عامر خان نیازی کو آئی جی پنجاب نے کلوز ٹو سنٹرل پولیس آفس لاہور کر دیا گیا

‏تفصیلات مطابق آئی جی پنجاب ⁦‪‬⁩ ڈاکٹر عثمان انور کا ⁦‪راولپنڈی پولیس ‬⁩ کی فی میل پی ایس پی افسران کی جانب سے “ہراسمنٹ ایٹ ورک پلیس” کی شکایات و کرپشن کے الزمات پر نوٹس

‏ایس ایس پی آپریشنز محمد عامر خان نیازی کو کلوز ٹو CPO لاہور کر دیا

‏پنجاب پولیس کے سربراہ نے SSP ‏عامر خان نیازی خلاف انکوائری لیے ہائی لیول کمیٹی بھی تشکیل دے دی جس کی سربراہی ڈی آئی جی محمد ادریس کر رہے

‏ڈی آئی جی محمد ادریس کی آر پی او آفس آمد اور شکایت کنندگان پی ایس پی افسران سمیت دیگر پولیس افسران، ایس ایچ اوز و محررز سے انکوائری؛ بیانات قلمبند کر لیے
‏زرائع مطابق ڈی آئی جی محمد ادریس سامنے راولپنڈی پولیس کی تین فی میل پی ایس پی افسران (جن میں اسے ایک ایس ایس پی، دوسری ایس پی اور تیسری اے ایس پی ہیں) پیش ہوئیں اور اپنے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے

‏علاوہ ازیں DIG محمد ادریس نے سابق ایس ایچ او SI حبیب سے بھی انکوائری کی جس نے زرائع مطابق SSP عامر نیازی کو ان کے زیر تعمیر گھر لیے سینٹری و دیگر کام لیے مبینہ طور پر بیس لاکھ روپے کا سامان بشمول پائپ بطور رشوت دیا تھا

‏اسی طرح انکوائری کمیٹی کے سربراہ نے تھانہ بنی میں تعینات محرر کفیل سے بھی پوچھ گچھ کی جن پر الزام ہے کہ ان سے ایس ایس پی عامر خان نیازی سالم بکرے/دنبے بطور رشوت وصول کرتے تھے

‏اسی طرح ایک فی میل ایس پی (جوکہ ایس ایس پی عامر خان نیازی خلاف ہراسمنٹ کی شکایت کرنے والی ہیں) کے ریڈر (جسکو ایس ایس پی عامر نیازی نے کسی وجہ سے معطل کردیا تھا) کو بھی انکوائری کمیٹی کے سربراہ نے بلایا اور ان سے سوال جواب کیے

‏راولپنڈی پولیس لائن میں تعینات OSI (جوکہ سابق ایس ایس پی آپریشنز کے چہیتے سمجھے جاتے تھے) کو بھی کمیٹی اراکین نے آر پی او آفس طلب کر کے جانکاری کی

‏زرائع مطابق آئی جی پنجاب کے احکامات کی روشنی میں بنائے جانے والی انکوائری کمیٹی اراکین نے راولپنڈی میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور کام کی جگہ پر زنانہ پولیس افسران کو ہراساں کرنے اور دیگر لو رینگ پولیس افسران سے منتھلیاں و دیگر اقسام کی رشوت وصولی کرنے والے ایس ایس پی عامر نیازی خلاف بڑے پیمانے پر انکوائری جاری ہے جس میں سکیورٹی برانچ سمیت دیگر برانچز کے افسران، ایس ایچ اوز، انچارج ڈالفن فورس سے بھی بلا کر پوچھ گچھ کی جارہی ہے

دوسری جانب عامر خان نیازی کی ہوشرباء کرپشن کی داستانیں، اپنی ہی زنانہ کولیگز کو ہراساں کرنے کی خبر راولپنڈی پولیس پر بم بن کر گری جس سے پورے محکمہ کھلبلی مچی ہوئی ہے

‏حیران کن طور پر جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی، معاشرے کے پسے ہوئے افراد کے حقوق کی حفاظت کرنے والی اور ⁦حکومت پنجاب

آئی جی پنجاب کی جانب سے راولپنڈی پولیس کا دنیا میں مثبت امیج اجاگر کرنے لیے تعینات کی گئی تین پی ایس پی افسران نے استفسار پر یکسر انکار پر دیا کہ وہ SSP عامر خان نیازی کی جانب سے ہراسگی کا شکار ہوئی ہیں یا انہوں نے آئی جی کو اسکی شکایت درج کروائی

‏تاہم ان میں ایک ASP رینک کی افسر نے بتایا کہ وہ محکمہ کی اور زنانہ افسران کی طرح انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئی اور اپنا بیان بھی ریکارڈ کروایا تاہم انہوں نے اپنی جانب سے SSP عامر نیازی خلاف ہراسکی کی درخواست کی خبر کو ماننے سے انکار کردیا

‏آر پی او راولپنڈی سید خرم علی شاہ نے بتایا کہ آئی جی پنجاب نے الزامات کی روشنی میں ایس ایس پی آپریشنز عامر خان نیازی کو کلوز تو سنٹرل پولیس آفس لاہور کر دیا اور ان الزامات کی انکوائری لیے ڈی آئی جی محمد ادریس کی سربراہی میں ہائی لیول کمیٹی تشکیل دے دی

‏انہوں نے کہا کہ کسی بھی افسر کو بغیر الزامات کی تحقیق کے مؤرد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا

‏یہاں ایک اور خوفناک خبر کوشئیر کرتا چلوں کے عامر خان نیازی مبینہ طور پر اچھے کردار کے مالک نہیں ہیں

‏زرائع مطابق جب وہ اے ایس پی تھے تو انہوں نے پنجاب پولیس کی ایک نہایت ہی خوبرو اے ایس پی سے شادی کر لی تھی

‏موصوف کی بیوی ایک پُر فضا مقام کی اے ایس پی سرکل تعینات تھی جب یہ ایک لیڈی کانسٹیبل ساتھ رنگ رلیاں منانے مبینہ طور پر ایک ہوٹل میں جا گھسے جس کی اطلاع ان کی اہلیہ کو ہوگئی جنہوں نے فی الفور اس ہوٹل پر بھاری نفری ہمراہ ریڈ کر دیا اور اپنے شوہر کو ایک زنانہ سپائی ساتھ روم میں رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا

‏زرائع مطابق عامر خان نیازی کی اے ایس پی بیوی نے ان کی خوب “دھنائی” کی جس بعد انہوں نے اے ایس پی عامر خان نیازی سے خلع لے لی تھی

‏بعد ازاں عامر خان نیازی نے ایک بار پھر کسی سب انسپکٹر رینک کی خاتون پولیس افسر سے شادی کر لی تھی

‏زرائع مطابق ایس ایس پی عامر خان نیازی پر ڈی پی او چنیوٹ تعیناتی دوران بھی شدید کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے جبکہ انہوں نے جہلم میں تعیناتی دوران ایک برٹش فیملی کے دوست کا نسلی گھوڑا پسند آجانے پر نہ صرف یہ گھوڑا بلکہ ایک عدد بھینس بھی اپنے قبضہ میں لے لی تھی۔ اسی طرح اس پولیس افسر پر ایک دوست سے Vigo ڈالا لے کر ہڑپ کرنے کا بھی الزام ہے جس کی انکوائری جاری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں