تحریر: یاسر رؤف جوئیہ
پاکستان سپر لیگ کا آٹھواں ایڈیشن کل رات اپنے روایتی انداز میں اختتام کو پہنچا جو اسکا خاصہ ہے۔ لاہور قلندرز نے آخری گیند پر ایک رن سے فتح سمیٹی اور مسلسل دوسری بار چیمپیئن ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا جبکہ ملتان سلطانز کو مسلسل دوسری مرتبہ فائنل میں شکست ہوئی اور فتح کے نزدیک پہنچ کر ہمت ہار بیٹھے۔
زمان خان مرد بحران ثابت ہوئے، جب حارث رؤف جیسے جری جوان کو انیسویں اوور میں 22 سکور کی ہزیمت اٹھانا پڑی تو آخری اوور میں 13 سکور کا آسانی سے دفاع کیا اور اس سکور کے آگے چٹان ثابت ہوئے۔ بڑی لیگ کے بڑے فائنل میں اپنے اعصاب پر قابو رکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں لیکن کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے خوشدل شاہ اور عباس آفریدی کو ہوا میں بلے گھمانے پر مجبور کئے رکھا اور آخری گیند پر چار سکور بچا گئے۔
اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کرکٹ نے بہت کچھ دیکھا، جانا، پایا، کھویا۔ اس کا مختصراً جائزہ لیتے ہیں۔
نئے چہرے:
احسان اللہ نے بالنگ میں بہت متاثر کیا۔ مسلسل تیز گیند بازی، وکٹ ٹیکنگ آپشن کے طور پر استعمال ہوتے رہے اور ہر موقع پر کپتان کی امیدوں پر پورے اترے۔
صائم ایوب نے چھوٹی عمر میں بڑی باریاں کھیلیں، دنیائے کرکٹ کے منجھے ہوئے بالرز کو سر پیٹنے پر مجبور کیا اور سب کی آنکھوں کا تارا بنے۔
عباس آفریدی جو عمر گل کے بھانجے ہیں نے اپنے ماموں کی طرح ٹورنامنٹ میں وکٹس کے انبار لگائے اور سب سے زیادہ وکٹس حاصل کیں۔
کم بیکس:
جس طرح نئے چہروں نے لیگ میں متاثر کیا ویسے ہی کچھ پرانے چہروں کے پاس اپنی پرفارمینس دکھانے اور سلیکٹرز کو متاثر کرنے کا موقع ہاتھ آیا جو کئیوں نے آگے بڑھ کر اسکا بھرپور استعمال کیا اور کئی ایک یہاں بھی ہاتھ ملتے ہی رہ گئے۔
آل راؤنڈرز میں فہیم اشرف اور عماد وسیم سر فہرست ہیں جنہوں نے اپنی کارکردگی سے سلیکٹرز کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی جبکہ نوجوان عامر جمال جو انگلینڈ کیخلاف ڈیبیو کر چکے نے بھی اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور میچ وننگ پرفارمینسز سے شائقین اور عوام کے دل جیتے۔
بیٹنگ میں اعظم خان نے اپنا لوہا منوایا اور میچ وننگ پرفارمینسز اور دھواں دھار بلے بازی سے ٹیم میں جگہ بنائی۔
بالنگ لائن اپ پہلے سے ہی پوری ہے اور نوجوان چہروں کی عمدہ پرفارمینسز سے پرانے کم بیکس کا چانس نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ البتہ عامر کے شائقین کو امید تھی کہ وہ اپنی عمدہ کارکردگی سے بورڈ اور سلیکٹرز کو متاثر کرے گا تاہم کراچی کی پے در پے شکستیں اور محمد عامر کے روئیے اور انجریز کے مسائل کی وجہ سے ممکن نہ ہو پایا۔
پرانے چہرے:
رضوان اور بابر بیٹنگ میں چھائے رہے اور بالترتیب سکور چارٹ پر پہلا اور دوسرا نمبر حاصل کیا۔ بابر نے اس ٹورنامنٹ میں اپنی تیز رفتار بلے بازی کے جوہر بھی دکھائے اور ثابت کیا کہ وہ ہر لحاظ سے ٹاپ کلاس بلے باز ہے اور ہر کنڈیشن میں کھیلنا خوب جانتا ہے۔ مزید اس نے نئے چہروں کیساتھ جس طرح پلے آف میں جگہ بنائی اور ٹورنامنٹ کی سب سے خطرناک ٹیم کو ایلیمینیٹر 1 میں آؤٹ کلاس کیا وہ اس کی کپتانی کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
رضوان نے بہترین بیٹنگ اٹیک اور نئے بالنگ اٹیک کیساتھ اپنی ٹیم کو لیڈ کیا اور بیٹنگ کے شعبے میں فرنٹ سے لیڈ کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی۔
محمد حارث نے اپنی بلے بازی سے ثابت کیا کہ وہ اب منجھا ہوا کھلاڑی بن چکا ہے اور ورلڈ کلاس بالنگ لائن اپس کے پسینے چھڑانے کیلئے تیار ہے۔
بالنگ کے شعبے میں شاہین اور حارث نے اپنی دھاک بٹھائے رکھی لیکن نسیم شاہ کی پرفارمینسز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ناکامیوں میں گہنا گئیں۔
ڈراؤنا خواب:
اس ایڈیشن میں سب سے زیادہ تنقید کا سامنا کراچی اور کوئٹہ کو کرنا پڑا جو بڑے ناموں کے باوجود بڑی ناکامیوں کا داغ ماتھے پر سجائے ٹورنامنٹ کے پہلے ہی مرحلے سے آؤٹ ہو گئیں۔ سرفراز کی کپتانی اور عماد کی کپتانی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ گو کہ عماد نے بالنگ اور بیٹنگ میں اپنے خوب جوہر دکھائے تاہم آخری وقت پر اچھی تبدیلیاں نہ کر سکے اور فتح کے قریب پہنچ کر ہار کا منہ دیکھتے رہے۔
سرفراز کی قیادت میں افتخار اور عمر اکمل نے گو کہ اچھی پرفارمنسز بھی دیں تاہم اہم مواقع پر ڈلیور کرنے میں ناکام رہے اور بڑے ناموں کے باوجود ٹیم کیلئے کچھ خاص نہ کر سکے۔
آصف علی سے روٹی گینگ کو خاصی امیدیں وابستہ تھیں تاہم وہ پورے ٹورنامنٹ میں آف کلر نظر آئے اور مجبوراً ٹیم سے اندر باہر ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔
شرجیل خان جس سے کراچی کنگز کو خاصی امیدیں وابستہ تھیں اور وہ خود بھی پرفارم کر کے کم بیک کرنا چاہتے تھے لیکن پورے ٹورنامنٹ میں آف کلر رہے اور کوئی خاطر خواہ اننگ نہ کھیل سکے جس کی وجہ سے ٹیم سے باہر بھی ہوتے رہے۔
وہاب ریاض کیلئے یہ لیگ شروع ہونے سے پہلے ہی ڈراؤنا خواب بن گئی تھی جب افتخار احمد نے چھے گیندوں میں چھے چھکے انہیں رسید کئے تھے اور پھر پوری لیگ میں وہاب اپنا آپ ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
محمد عامر جنہوں نے ورلڈ کپ کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم پر تنقید کے نشتر کی برسات کئے رکھی تھی وہ بھی پورے ٹورنامنٹ میں خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے اور نہ انکی ٹیم۔ جس میچ میں 4 وکٹیں لیں وہ بھی ہار گئے اور مزید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔
ٹریڈز:
بابر کی ٹریڈ زلمی کیلئے بارش کا قطرہ ثابت ہوئی جبکہ شعیب ملک اور حیدر علی کو لیکر بھی کراچی کنگز خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی۔ یوں یہ ٹریڈ زلمی کیلئے خوش آئند جبکہ کنگز کیلئے بدقسمتی ثابت ہوئی۔ بابر جسکی کپتانی کو لیکر کراچی کنگز کے مالک، کوچ اور کھلاڑیوں کو تحفظات تھے اس نے نئی فرنچائز کو قدرے نوجوان اور کم تجربہ کار کھلاڑیوں کیساتھ پلے آف کے دوسرے مرحلے تک پہنچایا تاہم عماد کی کپتانی میں ایسا کوئی سپارک نظر نہیں آیا اور شعیب ملک جیسے تجربہ کار کھلاڑی کے ہوتے ہوئے بھی کوئی پلان اچھے سے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ دوسری جانب بابر الیون کے ہاتھوں دو بار شکست کا مزہ چکھنا پڑا کراچی کنگز کو جس سے بابر کی کپتانی کی کامیابی پر مہر ثبت ہو گئی۔
غیر ملکی کھلاڑی:
راشد خان، ڈیوڈ ویزے، ریلی روسو، کیرون پولارڈ، سیم بلنگز، جمی نیشم، مارٹن گپٹل نے اہم مواقع پر پرفارم کیا اور اپنی ٹیمز کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سکندر رضا، کوٹرل، الیکس ہیلز، جیسن روئے نے بھی پیسے پورے کئے تاہم اسٹرلنگ، منرو، اوڈین سمتھ اور پاول کوئی خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے۔
ہائی وولٹیج میچ:
لیگ کی ابتدا اور انتہا لاہور کی ملتان کیخلاف ایک رن سے فتح سے ہوئی۔ 240+ چیز ہوا اور کئی ایک میچ آخری اوور تک گئے جس نے لیگ کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے۔
مستقبل:
پاکستان سپر لیگ کا مستقبل انتہائی شاندار ہے۔ اسکی ایک اہم وجہ مسابقتی فضا، کوالٹی کرکٹ اور پیسے کی جگہ پروفیشنلزم ہے جس سے پلئیرز کی گرومنگ ہوتی ہے اور انہیں بہترین کھلاڑیوں کیساتھ بھرپور کرکٹ کھیلنے اور دیکھنے کو ملتی ہے۔
حاصل تحریر:
پاکستان سپر لیگ نے ہر سال پاکستان کرکٹ کو ایک سے بڑھ کر ایک کھلاڑی دیا ہے اور اس سال تو باقاعدہ سیکنڈ الیون بن چکی ہے۔ امید ہے یہ چھوٹا سا پودا جو 2016 میں لگا اب تناور درخت بن گیا ہے اور ثمر آور بھی ہو رہا ہے۔ اس کا ثمر پاکستان کرکٹ کی بلندی اور ہر ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنا ہے تاہم آئندہ ٹورنامنٹس جیتنا ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔
رہی بات ٹورنامنٹ کی تو یہ ایڈیشن ویورشپ اور سپانسر شپ کے حوالے سے زبردست کارکردگی کا حامل رہا اور اسے کامیاب ایڈیشن قرار دیا جا رہا ہے۔
رہے نام اللہ کا۔