کالے بالوں والے بوڑھے

“کالے بالوں والے بوڑھے”

نیوز روم/امجد عثمانی
دوستوں کی سفید بالوں بارے اپنی اپنی رائے ہے۔۔۔۔۔کچھ کہتے ہیں کہ بیگم کی “ڈیمانڈ “ہے تو کچھ اسے بچوں کی” ضد “قرار دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔کچھ لوگ ” کالے کولے”کو ایک “بہتر آپشن” سمجھتے ہیں تو کچھ کہتے ہیں کہ یہ “مجبوری” ہے کہ اس سے بچے کھچے کالے بال بھی سفید ہو جاتے ہیں۔۔۔۔اور پھر “سیاہ کاری” کے سوا کوئی آپشن نہیں بچتا۔۔۔۔۔
عہد ساز ادیب اے حمید نے فقیر شاعر ساغر صدیقی سے امرتسر میں اپنی پہلی ملاقات کا احوال بیان کرتے لکھا:مجھے ساغر صدیقی کے کنڈلوں والے چمکیلے بال آج بھی یاد ہیں۔۔۔۔ان بالوں کا اس نے لاہور آکر بہت برا حشر کیا۔۔۔۔۔اگر اس کے بال سفید بھی ہو جاتے تو کبھی خصاب نہ لگاتا۔۔۔۔۔۔لوگ خضاب لگا کر بڑھاپے کو چھپاتے ہیں لیکن یہ جتنا چھپائو اتنا ہی ابھرتا ہے۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں” کالے بالوں والے بزرگ” زیادہ نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں