محاسبہ
ناصر جمال
میں وہ تصویر ہوں جس کو مصور
ادھورا چھوڑ کر خود رو پڑا ہے
هم ”میڈ ان پنڈی“ ہیں ۔ہمارا میرٹ پنڈی ہے۔ ہمارا کلہ مضبوط ہے۔ اس لیے، ہر بدنیتی، نالائقی، نا اہلی اور بے حسی کے باوجود ، اقتدار سے چمٹے رہنا ہماراحق ہے۔ ہمارے، ڈالر اور ڈار کے درجات، مزید بلند ہونگے۔ جس نے جو کرنا ہے کرلے۔ اب اقتدار ، مراعات ، کمانے اور مقدمات ختم کروانے کے مواقع روز ، روز تھوڑا ہی ملتے ہیں۔ باقی بات رہ گئی عوام کو تو وہ 75 سال پہلے بھی ایسے ہی حالات میں رہتے تھے ۔ آج بھی رہ رہے ہیں۔ انھیں عادت ہے۔ جو زیادہ سوچے ، وہ خودکشی یا خود سوزی کرلے۔
قارئین!!!
ابھی، ابھی، لاہور ٹی وی پر ایک دانت کی دوائی بیچنے والے کا ایک کلپ دیکھا۔ کسی ایڈیشنل آئی جی نے بڑے درد بھرے جذبات کے ساتھ بھیجا۔ لکھا کہ’’ مجھے جنگ عظیم دوئم کا وہ بلیک اینڈ وائٹ کلپ یاد ہے۔جس میں ایک جرمن خاتون پانی کے لیے،فیول بائوزر کے کھلے ڈھکن کو چاٹ رہی ہوتی ہے۔ ھائے۔۔۔ میں خود بھی برلن گیا ہوں۔‘‘
ہمارےٹی وی کلپ میں، مزدور کہہ رہا ہے کہ کوئی حال نہیں ہے۔ کبھی تین وقت کا کھانا کھاتے تھے. اب تو ایک وقت کا ہے۔ دوسرے کا نہیں ہے۔ کرایہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ سارا دن پھرتا ہوں۔ پانچ چھ سو سے اوپر نہیں آتا۔ (وہ روتے ہوئے کہتا ہے) کیا کریں چھوٹے، چھوٹے بچے ہیں کس کو بتائیں کون سنے گا۔ (وہ پھر روتا ہے) بچوں کو صبح کا ناشتہ کرواکر آیاہوں۔ دوپہر کی روٹی نہیں تھی، اُن کے پاس، اب شام کو جا کر کھانا کھلائوں گا۔ یہ حالات ہیں۔ سارا دن یہیں پھرتاہوں۔ جو مل جائے شام کو بچوں کے پاس لیکر چلا جاتا ھوں۔ بڑے بُرے حالات ہیں۔ اگریہی حالات ہونے تھے تو ہمیں زندہ رہنے کا حق نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ جن کی جائز ضروریات بھی پوری نہیں۔ ایک بچہ ’’سری لیک‘‘ کھاتا ہے۔ وہ بھی نہیں لے کر کھلا سکتا۔ کیونکہ وہ چالیس روپے کا ہوگیا ہے۔ کیسے کھلاؤں جو 600 روپے روز کما رہا ہے۔ وہ کیسے آٹا،چینی،گھی لے گا۔ کرایہ کیسے دے گا. ایک پائو گھی لیتا ہوں۔ اُس کوچھ سے سات دن چلاتا ہوں۔ کیا استعمال کرتے ہونگے ۔ بڑی پریشانی ہے۔ اتنی مہنگائی ہوگئی۔ بچوں کا دودھ لینے کے لیے پریشان ہوتا ہوں۔ پہلے ایک ۔کے۔جی۔ لیتا تھا۔ اب آدھا کلو لےجاتا ہوں۔ پیسے ہوتے نہیں ہیں۔ کہاں سے لاؤں. ایسی ہی گزر بسر ہے۔ بہاولپور سے ہجرت کر کے آیا ہوں۔ میرا گھر گر ہے۔ یہاں ایک کمرے کے مکان میں؟ سنت نگرمیں رہ رہا ہوں کو پرسان حال نہیں۔ نہ ہی کوئی پوچھنے والا ہے. یہ کونسی زندگی ہے ۔ سارا دن کماؤ،پانچ چھ سو لیکر جاؤ . صبح ناشتے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔یہ کوئی زندگی ہے۔
2 منٹ تین سیکنڈ کے اس کلپ نے کتنے ہی پرانے زخم اور زندگی کی تلخیاں یاد کروا دیں۔ میں بھی کبھی ایسے ہی تنہا تھا. رب ، رسولﷺ، اہل بیعتؓ اور بزرگوں کا سہارا تھا۔ پھر بہت سے اچھے دوست تھے. جو گاہے، بگاہے، ساتھ کھڑے ہوگئے۔ میں نے ان ہی کو اپنے بھائی بہین مان لیا۔ سمجھ میں آیا ۔ جدید دنیا میں رشتوں کا تصور بدل چکا ہے۔ جو سخت ترین وقت میں ساتھ کھڑا ہو، وہی خونی رشتہ ہے۔ جو ساتھ چھوڑ جائے ، چاہے ، وہ خونی رشتہ ہی کیوں نہ ہو، آپ بھی کنارا کر لیں . رشتے خوشحالی نہیں، غربت، دکھ، درد اور مصیبت میں پرکھے جاتے ہیں۔ عمیر نجمی نے کمال کہا ….
تجھے نہ آئیں گی، مفلس کی مشکلات سمجھ
میں چھوٹے لوگوں کے گھر کا بڑا ہوں بات سمجھ
میرے علاوہ، چھ لوگ ہیں مخصر مجھ پر
تو میری ہر ایک مصیبت کو ضرب سات سمجھ
کریں یہ کام تو کُنبے کا وقت کٹتاہے
تو میرے ہاتھوں کو گھر کی گھڑی کے ہاتھ سمجھ
خلیفہ وقت نے سامان اپنی پشت پر لادا ہوا ہے۔ غلام کہتا ہے ، سامان مجھے اٹھانے دیں۔ خلیفہ کہتا ہے کہ قیامت کے روز بھی کیا میرا وزن تم اٹھاؤ گے.
وہی خلیفہ بیابان صحرا میں ، کسی بوڑھی عورت اور اس کے بچوں کی حاجت روائی کے لیے جاتے ہیں۔ دیکھتے ہیں۔ غربت اور بھوک وہاں پر رقص کر رہی ہے۔ اپنے ہاتھوں سے آگ جلاتے ہیں. پورا چہرہ گرد آلود ہو جاتا ہے۔ کھانا بناتے ہیں۔ صفائی کرتے ہیں. بچوں اور بوڑھی عورت کو کھانا کھلا تے ہیں۔ بوڑھی عورت سے کہتے ہیں۔ اماں۔۔ تم یہاں بچوں کو بیابان میں لیے بیٹھی ہو۔ خلیفہ عمر کو کیسے پتا چلے گا۔
بوڑھی عورت جلال میں آجاتی ہے کہتی ھے کہ” اگر عمر میری خبر گیری نہیں کرسکتا، تو اُسے کس نے کہا تھا کہ وہ خلیفہ بنے۔
جناب عمر فاروقؓ، اس بات یہ زار و قطار روتے ہیں۔
آج آپ میں بتائیں کہ قلم کار، حاکم وقت اور اپنے سپہ سالار سے سوال کیوں نہ کرے۔
اگر 23 کروڑ لوگوں کی خبر گیری نہیں کر سکتے ہو تو، آپ کو کس نے کہا ہے کہ آپ اپنے عہدوں پر رہیں۔آپ گھر کیوں نہیں چلے جاتے۔ اپنے سے کسی بہتر کو آنے دیں. جو اللہ کی خلق کا خیال رکھے۔ یہ درست یہ ہے کہ آپ مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔اگر کسی ناکام کو کوئی سہارا دیئے ہوئے ہے تو وہ بھی ، کیا اُسی کا ساتھی نہیں ہوگا۔
ہیں وہ سوال ہے جو آج خلق خدا پوچھ رہی ہے۔ فوج ، اس ملک سے عشق کرتی ہے۔ عوام ، فوج سے ہمیشہ عشق کرتے ہیں. مگر وہ دن کب آئے گا. جب فوج 23 کروڑ لوگوں سے عشق کرے گی۔
آخر اس ملک میں کب تک اسکرپٹ لکھے جا تے رہیں گے کب تک ، عوام پر حکمرانوں کو مسلط کیا جاتا رہے گا۔ کب تک آپ صرف خود کو مضبوط کرتے رہیں گے۔ آخر یہ پروجیکٹ، بند کیوں نہیں ہوتے۔ دفاعی کالجز اور یونیورسٹیز میں، سویلین کا کیا کام ہے۔ پالیسی میکنگ سے جنگجوؤں کا کیا لینا دینا، کروائےگئے کورسز سے،گورننس میں کونسی بہتری آئی ہے۔ دفاعی اداروں سے سینکڑوں، ہزاروں لوگ، سول ایڈمنسٹریشن میں آئے ، وہ انقلاب تھا تو آج هم منہ کے بل، اوندھےکیوں پڑے ہوئے ہیں۔آخر ھمارے لیڈروں اور اداروں کے انا اور طاقت کی ھوس کب ختم ہوگی۔
قارئین ! آج ھم جہاں کھڑے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اپنی غلطیاں کیوں ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ آج پوری دنیا میں ہم تنہا ہیں۔ کوئی ایک ملک تو بتائیں۔ یہاں ھماری عزت ہو۔ ہم نے ہر محاذ پر خود کو تباہ کرلیا۔معیشت رہ گئی تھی۔ اُسے بھی ٹھکانے لگا دیا ہے۔ کیا اس ملک میں کہیں گورننس اور قانون ہے۔ جب آپ سپریم کورٹ تک کے فیصلوں پر انگلیاں اٹھائیں گے۔ بلکہ اسے سرعام بے توقیر کریں گے تو، پیچھے کیا بچتا ہے ۔ملک میں انصاف کے معیارات تہہ در تہہ ہیں ۔ نسلہ ٹاور ، حیات ریجنسی ٹوین ٹاور ، بنی گالہ ، دوستوں اور ملک ریاض کے لیے قلم اور کاغذ الگ ہیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ کے نام کو قوم کو باقاعدہ بھکاری بنا دیا گیا ہے۔ بس سیاسی دکانیں، چمکنی چاہیں۔ تعلیم دنیا ریاست کا کام تھا۔ مگر آج قوم تعلیم سے لیکر پانی، سیکورٹی سے لیکر انصاف تک،سب خرید رہی ہے۔ لوگوں کو، مذہب، قومیت ، علاقے، زبان، طبقات کے نام پر خوفناک تقسیم کا سامنا ہے۔ یہاں میرٹ ، ذاتی وفا داری، خوشامد ،کرپشن، سیاسی وفاداری اور طاقت ہے۔ قومی نوانے کا کوئی محافظ ہی نہیں۔ پیرو کا مالہھے۔لوٹ کے کھا جائو۔ پیسہ کہاں آتا ہے۔ کہاں جاتا ہے۔ تمام حسابات” کالے“ ہیں۔ نظام بیٹھ چکا ہے۔ کسی پالیسی میں تسلسل نہیں ہے۔ ماسوائے ، اس کے کہ کس کو اقتدار میں لانا ہے۔
کسی کو نکالنا ہے۔23 کروڈ کی آبادی طاقت بن سکتی ہے ہم نے، اسے وبال بنا دیا ہے۔ ایران سے پیٹرول اور ڈیزل آسکتا ہے۔ انڈیا سے ، کامیٹکس پابندی کے با وجود آسکتی ہیں، اگر نہیں آسکتا تو، ٹماٹر، پیاز اور گندم نہیں آسکت۔ی روس سے گندم لینی ہے۔ سب کو پتا ہے، کیوں لینی ہے۔
آج ایرانی ڈیزل اور پیٹرول اسلام آباد تک مار کر رہا ہے۔
اندھے کو بھی پتا ہے کہ دوہزار کلو میٹر ، اس کو کون نہیں روکنے دے رہا۔ ظاہر ہے طاقتور ترین لوگ مال بنا رہے ہیں۔ افغانی پاکستان سے ہزاروں کنٹینر روز مال اٹھارہے ہیں۔ مزے کی بات ہے۔وہ ڈالر کی بجائے ، پاکستانی روپے دے رہے ہیں۔ یہاں کوئی اندازہ ہی نہیں کر پایا ۔ کھیل کیا ہے ۔ تاجروں ، صنعت کاروں نے مال اُٹھوا دیا۔ کاروبار میں تیزی ہے۔ باہر سے را میٹریل کے آرڈرز دے دیئے ۔ حکومت کے پاس ڈالرز ختم ہو گئے۔ ایل۔سیز۔ پھنس گئیں۔ روپے کا بھٹہ بیٹھ گیا۔
ویسے، آپس کی بات ہے۔ پاکستان کے لیے، جس نے بھی سکرپٹ لکھا ہے۔ کمال کا لکھا ہے۔ اس نے زبردست طریقے سے ہمیں الجھایا اور چاروں شانے چت کر دیا۔ انہیں پتہ تھا لیڈرشپ نااہل اور نالائق ہے۔یہ انہیں اور برے طریقے سے پھنسا دیں گے اور وہی ہوا۔ ہم ہر طرف سے چوک ہوچکے ہیں۔
دنیا نے ہم پر کیا، اعتبار کرنا ہے۔ ہم تو ہمارے اوور سیز اور ملک میں رہنے والے، پاکستانی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ آج بھی اس ملک میں اربوں ڈالرز ھماری پیاری اشرافیہ کے پاس،ملک کے اندر موجود ہیں۔ کسی میں جرات اور ہمت نہیں ہے کہ انہیں” ٹچ“ بھی کر سکے۔ وہ ھر روز ڈالر اوپر جانے کے لیے باقاعدہ دعائیں کر تے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے ذمہ داروں کو پتا نہیں ہے۔ مگر جب سب ہی ملے ہوئے ہوں تو، کیا ہو سکتا ہے۔ جی ہاں ! ”بروٹس تم بھی ‘‘
قارئین !!!
کتنی عجیب بات ہے ۔ لگتا ہے قدرت، ہماری اشرافیہ سے نہیں۔بلکہ ہم سے ناراض ہو گئی ہے۔ وگرنہ ، ان کے ڈالرز بچے نہ دے رہے ہوتے۔ زندگی، عام آدمی کی اجیرن ہوتی ہے۔ اور ہمیشہ سے ہوتی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ عام آدمی اپنے حق کے لیے ، کبھی کھڑا ھی نہیں ہوتا۔ بہر حال یہ کیفیت بہت خطرناک ہے۔ لگتا ہے کہ ہم نے ایک الگ ملک تو لے لیا۔ مگر غلامی ، ھمارے لہو اور ”جیز “سے نکل نہیں سکی۔ پوری قوم، ایک اور غلامی کے لیے ، صرف تیار ہی نہیں ہے۔بلکہ غلامی اختیار کر چکی۔
ھمارے آقا، ہمیں صرف یہ بتا دیں کہ ، ہمارا اصل مالک کون ہے ۔ یا ہمیں ٹھیکہ پر کس کو دیا گیا ہے۔ تاکہ ہم ٹھیکیداروں کی بجائے ، اپنے اصل مالک کی صحت سلامتی اور درازی عمر کے لیے، مصلے بچھا کر دعا کر سکیں۔غالباً شرعی حکم بھی یہی ہے۔
دیکھے تیری نظر کے ہزاروں مسودے !!!!
ہم حاشیے میں ہیں نہ کسی اقتباس میں
(احمد حسین مجاہد )