جزیرہ استولا

پاکستان کا جزیرہ استولا

تحریر! (تغیر) مبشر نور کمیانہ

پاکستان میں بہت سی ایسی خوبصورت جگہیں آباد ہیں جن کے بارے میں بہت سے پاکستانی خود بھی نہیں جانتے۔ پاکستان کو سونے کی چڑیا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ قدرت نے پاکستان کو قدرتی حسن بخشا ہے۔ بہت بلند و بالا پہاڑی سلسلے، کوہ ہمالیہ، کوہ قراقرم، اور کوہ ہندوکش کی برفانی چوٹیوں، ان چوٹیون کے دامن میں پھیلی وادیوں، ان وادیوں میں بہتے دریاوؑں، اور بلند و بالا خوبصورت آبشاروں کا بہت بڑا سلسلہ ہے۔ اور بہت خوبصورت جنگلات آباد ہیں۔ جانوروں اور پرندوں کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں۔

پاکستان میں چولستان اور تھر کے صحرا ، بلوچستان کے پہاڑ اور صحرا ، خیبرپختونخوا کے بلند و بالا خوبصورت پہاڑ، گوادر، جیوانی، استولا آئی لینڈ جیسے خوبصورت ساحلی علاقے اور وادیِ مہران کے زرخیز و شاداب کھیت کھلیانوں کی شان بھی کسی سے کم نہیں۔

خیر ان سب علاقوں کے بارے میں تو اکثر لوگوں کو علم ہے ہی، بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ شمالی و جنوبی وزیرستان اور فاٹا کے علاقے قدرتی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ پاکسستان اور افغانستان کے درمیان قدرتی سرحد کا کام دینے والے کوہِ سفید اور تورا بورا کے پہاڑوں کے دامن میں آباد خوبصورت وادیاں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔

غرض یہ کہ کراچی تا خنجراب حسن و جمال کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو کبھی ختم پذیر ہونے والا نہیں۔
سوات بھی ایسے ہی حسنِ بے بدل کی مالک ایک بے نظیر وادی ہے جسے اِس کی لازوال خوبصورتی کی بدولت، ایشیا کو سویٹزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ وادی سوات اور اس کے اندر موجود دیگر وادیوں، کمراٹ، گبرال، اتروٹ، اور کالام، کا حسنِ بلاخیز سیاحوں کو اپنے سحر میں ایسے جکڑتا ہے کہ اس سے آزاد ہونا ناممکنات میں شامل ہے۔

سوات کا ہر موسم بہترین ہے۔ گرمیوں میں سرسبز و شاداب وادیاں، ان وادیوں میں لہلہاتے کھیت، سبزے کا مٰخملیں قالیں بچھاتے ہوئے پہاڑ، سردیوں میں سفید برفانی چادر اوڑھے بلند و بالا کوہسار، خزاں میں پھل دار درختون کے خشک ہوتے سمے زرد، نارنجی، سرخ اور قرمزی رنگ بدلتے ہوئے پتوں پر کا وہ سہانا منظر، اور موسمِ بہار میں انہیں درختون پر کھلتے ہوئے سفید، اور گلابی رنگوں کے پھولوں کا نظارہ۔ خیر یہ تو پاکستان کا حُسن جو قدرت نے پاکستانیوں کو تحفہ بخشا۔

قارئین۔ اب میں آپ کو ایک ایسی حیرت انگیز خوبصورت جگہ کے بارے میں بتانے والا ہوں کہ آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے۔ جی ہاں۔ جزیرہ ہفت تالار یا جزیرہ استولا بحیرہ عرب میں ایک چھوٹا غیر آباد پاکستانی جزیرہ ہے۔ جزیرہ ہفت تالار پاکستان کا سب سے بڑا سمندری جزیرہ ہے۔ یہ تقریبا 6.7 کلومیٹر (4.2 میل) طویل اور 2.3 کلومیٹر (1.4 میل) چوڑا جبکہ اس کا رقبہ تقریبا 6.7 مربع کلومیٹر (2.6 مربع میل) ہے۔ اس کا بلند ترین نقطہ سطح سمندر سے 246 فٹ (75 میٹر) ہے۔

یہ جزیرہ صوبہ بلوچستان ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کا حصہ ہے۔ جزیرے تک پہنچنے کے لیے پسنی سے موٹر کشتیاں حاصل کی جاسکتی ہیں جبکہ اس کی مسافت تقریبا 5 گھنٹے ہوتی ہے۔گوادر کا جزیرہِ استولا سمندری حیات کے لیے محفوظ علاقہ ہے۔ بلوچستان کی حکومت نے ضلع گوادر کے ساحل سے 40 کلومیٹر دور واقع جزیرے استولا کو سمندری حیات کے لیے محفوظ علاقہ قرار دے دیا ہے۔ یہ پاکستان کا پہلا ایسا علاقہ ہے جسے یہ درجہ دیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد جزیرے اور اس کے اردگرد پائی جانے والی سمندری حیات، پرندوں اور ان کے مسکن کو انسانوں کی مداخلت اور سرگرمیوں سے پہنچنے والے نقصان سے بچانا ہے۔

حکومتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی اجازت کے بغیر جزیرے کی زمین یا اس کے گرد سمندر کا استعمال نہیں کیا جا سکے گا کیونکہ یہ وہاں کے حیاتیاتی ماحول کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ جزیرہ عام لوگوں کی تفریح اور تعلیمی مقاصد کے لیے بھی اس وقت کھولا جائے گا جب حکومت اس کی اجازت دے گی۔ یہ جزیرہ اب عام لوگوں کی تفریح اور تعلیمی مقاصد کے لیے بھی اس وقت کھولا جائے گا جب حکومت اس کی اجازت دے گی۔

محفوظ علاقہ قرار دیے جانے کے بعد اب اس جزیرے پر ایسے کسی بھی کام کی ممانعت ہو گی جس کی وجہ سے جزیرے یا سمندر میں موجود حیات کی نشوونما اور افزائش نسل کے نظام میں خلل پڑے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے جزیرہ استولا پر ممنوعہ اقدامات طے کر رکھے ہیں تاکہ جزیرہ کی خوبصورتی ماند نہ پڑ جائے۔

وہیل، شارکس، کچھووں اور پرندوں سمیت ایسے تمام جانداروں کا شکار یا انھیں جال میں پھنسا کر پکڑنا منع ہو گا جن کی نسلوں کو معدومی کا خطرہ لاحق ہے۔جزیرے پر کسی بھی قسم کی عارضی یا مستقل تعمیرات کی اجازت نہیں ہوگی۔ متعلقہ حکام سے اجازت کے بغیر یہاں قیام نہیں کیا جا سکے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ کسی کو بھی ہتھیار لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ حکام سے اجازت کے بغیر جزیرے پر سکوبا ڈائیونگ، زیر آب تیراکی، کلف ڈائیونگ، جیٹ سکیئنگ، کشتی رانی، سرفنگ یا ماہی گیری کی اجازت نہیں ہوگی۔

یہ پاکستان کا پہلا ایسا علاقہ ہے جسے سمندری حیات کے لیے محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ ماہی گیری حکومت بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل محمد نور نے بی بی سی اردو کے محمد کاظم کو بتایا کہ اس جزیرے کی کل لمبائی ساڑھے تین کلومیٹر اور چوڑائی ڈیڑھ کلومیٹر ہے اور یہ سمندری علاقہ نہ صرف ماہی گیری کے حوالے سے بہت زیادہ زرخیز ہے بلکہ استولا کا جزیرہ سردیوں میں روس اور دنیا کے دیگر ممالک سے آنے والے پرندوں کا مسکن بھی بنتا ہے جو یہاں آ کر انڈے دیتے ہیں۔

انٹرنینشل یونین فار کنزرویشن آف نیچر(آئی یو سی این) کے مطابق استولا کا جزیرہ چھوٹی چٹانی پہاڑیوں پر مشتمل ہے اور یہ پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ ادارے کے مطابق یہاں ملنے والی کئی آبی حیات اور نباتات پاکستان کے دیگر علاقہ جات تو کیا کسی دوسرے ملک میں بھی نہیں ملتیں۔

صرف اس جزیرے پر پائے جانے والے جانداروں میں سن وائپر نامی زہریلا سانپ اہم ہے۔ اس کے علاوہ یہاں گریٹر کرسٹیڈ نامی پرندہ ہزاروں کی تعداد میں موجود ہے جبکہ دنیا کے دیگر علاقوں میں ان کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے۔ اس جزیرے کے ساحل پر معدومی کے خطرے کا شکار سبز اور ہاکس بل کچھووں کی انڈے دینے کی جگہیں بھی ہیں۔
اس جزیرے کو محفوظ علاقہ قرار دینے سے جہاں پرندوں کو تحفظ ملے گا وہاں اس کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے کورل یعنی مونگے کی چٹانیں بھی محفوظ ہو جائیں گی جنہیں اس علاقے میں غوطہ خوری سے نقصان پہنچ رہا تھا۔

اس علاقے میں ’کورلز کی 250 سے زائد اقسام ہیں۔ جب یہ کورلز فاسلز بنتے ہیں تو یہ نہ صرف مچھلیوں کی نسل کو بڑھانے میں مدد دیتے ہیں بلکہ چھوٹی مچھلیوں کو اپنے آپ کو بڑی مچھلیوں سے بچانے کے لیے پناہ گاہ بھی بن جاتے ہیں۔ورلڈ وائیڈ فنڈ کے تکنیکی ڈائریکٹر محمد معظم نے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ استولا کو محفوظ علاقہ قرار دینے کا اقدام کنونشن آف میرین بائیو ڈائیورسٹی کا حصہ ہے جس کی پاکستان نے توثیق کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کنونشن کے اہداف کے حوالے سے انڈونیشیا کے شہر آچے میں ایک اجلاس ہوا تھا جس میں قوموں پر یہ لازم کیا گیا تھا کہ وہ اپنی سمندری حدود کا دس فیصد آبی حیات کے تحفظ کے لیے مختص کریں گی۔ اس لیے پاکستان نے اپنا یہ جزیرہ محفوظ کیا ہوا ہے۔

اگر پاکستان کی نسبت ملائیشیاء، انڈونیشیا، سنگاپور، امریکہ، دبئی، سعودی عرب جیسے دیگر ممالک کو دیکھیں تو انہوں نے اپنے ساحلی علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے لیے بہت کام کیا ہوا ہے۔ جہاں خوبصورت عمارتیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ ساحل سمندر عوام کو سیر و تفریح کے لیے خوبصورت جگہیں مہیا کر رکھی ہیں جس کے زریعہ وہ حکومتیں بہت سا پیسہ کما کر خود کفیل ہو رہی ہیں۔

لہذا حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ جزیرہ استولا کے ساحل پر سیاحت کے فروغ کے لیے خوبصورت عالیشان بلڈنگز، ریستوران، پارکس وغیرہ بنا کر آمدنی کا زریعہ بنایا جائے۔ اس سے لاکھوں ملکی و غیر ملکی سیاح اس جگہ کا رُخ کریں گے تو اس کا فائدہ پاکستان کو ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں