نیویارک (نمائندہ خصوصی)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مغربی کنارے میں ایک نئی خونی کشیدگی کے بعد یروشلم کی حیثیت کو یکطرفہ اقدامات سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی کو بتایا کہ ہر نئی آباد کاری امن کی راہ میں ایک اضافی رکاوٹ بن رہی ہے۔ ہر نئی بستی کی سرگرمی بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے اور اسے روکنا چاہیے۔ تشدد کے لیے اکسانا ختم ہونا چاہیے۔ کوئی ایسی چیز جو دہشت گردی کو جواز بناتی ہو اسے سب کو مسترد کر دینا چاہیے۔
گوٹیرس نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی موجودہ صورتحال برسوں میں سب سے زیادہ کشیدہ ہے۔ اسرائیل-فلسطین امن عمل تعطل کا شکار ہے اور تنا ئواپنے عروج کو پہنچ رہا ہے۔سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور کی موجودگی میں اس بات پر زور دیا کہ ہماری فوری ترجیح مزید کشیدگی کو روکنا، تشدد میں کمی لانا اور امن بحال کرنا ہونا چاہیے۔1975 میں قائم ہونے والی اس کمیٹی کا نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں سولہ سالہ لڑکے سمیت 10 فلسطینی شہید 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے مطابق زیادہ تر فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں نابلس میں چھاپے کے دوران گولیا مار کر شہید کیا گیا۔