قمر زمان کائرہ

آئین سے کھلواڑ ،عارف علوی نے ملک کا صدر بننے کے بجائے عمرانی جیالا بننے کی کوشش کی’قمر زمان کائرہ

لاہو ر(نمائندہ خصوصی) وزیر اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ عارف علوی نے آئین سے کھلواڑ کیا اور ملک کا صدر بننے کے بجائے عمرانی جیالا بننے کی کوشش کی،صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ کے معاملے میں صدر کا کوئی کردار نہیں، آئین میں تمام عہدیداروں کی ذمہ داریاں واضح ہیں،ملک مزید غلطیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملکی سلامتی کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہائوس لاہور میں پریس کانفر نس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما چوہدری منظوراحمدودیگر بھی انکے ہمراہ تھے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اصل طاقت عوام کی ہے اور عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے،عمران خان ضمانتوں پر ضمانتیں لئے جا رہے ہیں اور عوام کو جیل بھرو تحریک کے لیے تیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ کے معاملے میں صدر کا کوئی کردار نہیں ہے، صدر کو یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ آئینی حدود سے تجاوز کریں،صدر مملکت پی ٹی آئی کے ورکر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، اپنے لیڈر کے کہنے پر یہ سب کچھ کررہے ہیں،آئین میں تمام عہدیداروں کی ذمہ داریاں واضح ہیں، صدر آئین سے تجاوز کرکے الیکشن کی تاریخ دے رہے ہیں، صدرمملکت کو آئین کی پاسداری کرنی چاہیے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی اور بااختیار ادارہ ہے اور الیکشن کروانے کی صوابدید مکمل طور پر الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔پاکستان کا آئین سب کیلئے مقدم ہے،پارلیمان جو فیصلہ کرتا ہے صدر اس پر دستخط کرتا ہے،وفاقی حکومت اور کابینہ فیصلے کرتی ہے،صدر اس پر عمل درآمد کرواتا ہے،

جوفیصلہ صوبائی حکومت کرے گی گورنر اس پر عمل کرواتا ہے۔عمران خان نے خط لکھ کر صدر مملکت کو ہدایات دینے کی کوشش کی ہے،الیکشن کمیشن ایک بااختیار ادارہ ہے، الیکشن کروانے کی صوابدید مکمل طور پر الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔وزیر اعظم کے مشیربرائے امور کشمیر نے کہاکہ عمران خان ضمانتوں پر ضمانتیں لیے جا رہے ہیں اور عوام کو جیل بھرو تحریک کے لیے تیار کر رہے ہیں’وہ جیل بھرو تحریک کا شوق پورا کر لیں، ہم نے جیلوں میں ماریں کھائی ہیں ،ہمارے لاکھوں کارکن شہید ہوئے’عمران خان کو کیا پتہ کہ جیلوں میں صعوبتیں کس طرح برداشت کی جاتی ہیں۔قمرزمان کائرہ نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملکی سلامتی کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا،ہمیں اپنے سکیورٹی اداروں پر ناز اور فخر ہے،دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لیے بھٹو کے وژن کی پیروی کرنا ہو گی۔عوام’علما کرام’طلبہ اور ہر مکتبہ فکر کے افراد کو اس ملک کو دہشت گردی سے بچانے اور ملکی معیشت کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں