واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکہ کے ایک اعلی عہدہ دار نے انکشاف کیا ہے کہ ماسکو نے یوکرین کی سرزمین پر اپنی جنگ میں چینی ڈرون استعمال کیے تھے۔ امریکی اخبار سے بات چیت میں کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی عہدہ دار نے کہا چین کے ڈرونز کیف سے انٹیلی جنس جمع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ حکمت عملی، ٹیکنالوجی اور طریقہ کار کو دیکھنے کے قابل ہیں۔ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ڈرون سائبر وارفیئر حملوں کا جواب کیسے دیتے ہیں۔بڑے پیمانے پر مغربی دبا کی مہم کے باوجود جس کا مقصد ماسکو کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔
پینٹاگون کو خدشہ ہے کہ یہ ڈرون نہ صرف روس کی جنگی کوششوں کو ہوا دیتے ہیں بلکہ چین کو میدان جنگ میں اہم انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے کا موقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ڈرون جو سویلین اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں اکثر تیسرے فریق خریدتے ہیں اور پھر چین سے بھیجے جاتے ہیں۔دوسری جانب چینی ڈرون کمپنی ڈی جے آئی ٹیکنالوجی نے واضح کیا ہے کہ وہ میدان جنگ میں سویلین ڈرونز کے استعمال کی مخالفت کرتی ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ اس نے گزشتہ سال اپریل میں روس اور یوکرین میں اپنی کارروائیاں معطل کر دی تھیں۔
ڈرون انڈسٹری میں مہارت رکھنے والی کمپنی نے وضاحت کی کہ الیکٹرانکس کے طور پر ڈی جے آئی کی مصنوعات بہت سے ملکوں میں صارفین آن لائن خرید سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صارفین یا اداروں کو روس اور یوکرین کے علاوہ دیگر ممالک یا خطوں میں خریداری کرنے سے نہیں روک سکتے اور پھر انہیں ماسکو اور کیف میں منتقل یا تحفے میں نہیں دے سکتے۔