سینیٹ میں احتجاج

چیف جسٹس کے ریمارکس پر اٹارنی جنرل کی وضاحت، سینیٹ میں احتجاج، چیئر مین نے اجلاس ملتوی کر دیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)سپریم کورٹ میں قونیب قانون میں ترامیم کیخلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے دیے گئے ریمارکس پر وضاحت کیلئے اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی کی جانب سے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو لکھے گئے خط پر سینیٹ میں احتجاج کیا گیااور اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا ۔منگل کو وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نے مجھے خط لکھا ہے، میں سمجھتا ہوں امانت کے طور پر بات ہائوس کے سامنے رکھی جائے۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بتایا کہ اٹارنی جنرل پاکستان نے مجھے بھی خط لکھا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے وضاحت نہیں کی، ایک بیانیہ دیا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ خود کورٹ میں موجود تھے، وہاں ‘ملک کا صرف ایک ہی وزیراعظم دیانتدار تھا’ جیسی کوئی بات عدالت میں نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ عدالت میں 1993 اور 1988 کی اسمبلیاں توڑنے کی بات ہوئی تھی، سوشل میڈیا رپورٹس درست نہیں ہیں۔اس پر سینیٹر رضا ربانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت افسوسناک بات ہے کہ اٹارنی جنرل نے یہ جرات کی ہے کہ ہائوس کی کارروائی کی وضاحت کریں، اٹارنی جنرل کو یہ استحقاق ہے کہ وہ دونوں ہاوسز میں آکر بیٹھ سکتا ہے، وہ اس ہائوس کا رکن نہیں، اس ہائوس کی کارروائی پر کنٹرول نہیں کر سکتا، اٹارنی جنرل اس ہائوس کی کارروائی پر وضاحت جاری نہیں کر سکتے نہ بات کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب عدلیہ کی جانب سے پارلیمنٹ کے اوپر حملہ ہوتا ہے تب بھی اٹارنی جنرل کو عدالت میں کھڑے ہوکر پارلیمنٹ کا دفاع کرنا چاہیے، اٹارنی جنرل کے اس خط پر تحفظات ہیں، ریکارڈ کے لیے وہ خط اس ہائوس کے سامنے رکھا جائے۔

اس پر وزیر قانون نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے صرف وضاحت کی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا جو سوشل میڈیا پر چلا، جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو کس نے تبصرے کرنے کا حق دیا ہے، وضاحت کرنی ہے تو رجسٹرار صاحب وضاحت جاری کریں۔اپوزیشن لیڈر سینیٹ شہزاد وسیم نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ انتخابات کی فی الفور تاریخ دیں، الیکشن کی تاریخ کا اعلان کریں اور میدان میں آئیں، کیا لاہور ہائی کورٹ عدالت نہیں؟۔انہوںنے کہاکہ یہ تصحیح کر رہے ہیں کون ایماندار تھا کون نہیں ؟انہوں نے کہا تھا یہ پارلیمنٹ نا مکمل ہے ۔

انہوںنے کہاکہ ایک بڑی جماعت کو آپ نے دیوار کے ساتھ لگایا ہوا ہے ،آئین کے تحت چلتا ہے تو کروائیں الیکشن ،آئین سامنے،عدالت کہتی ہے الیکشن کروائیں،،عدالتوں کا احترام کرنا ہے تو آئین کا بھی احترام کریں اس دور ان حکومت اور پی ٹی آئی اراکین میں آمنے سامنے آگئے جس پر چیئرمین نے بار بار وارننگ کی تاہم دونوں جانب سے احتجاج جاری رہا۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ لگتا ہے آپ لوگ ایوان چلانے کے موڈ میں نہیں۔ وزیر قانون نے کہاکہ آٹھ مہینے لاجز میں بیٹھ کر آجائینگے تو کیسے چلے گا ،لاڈ پیار والے استعفے قبول ہوئے تو آپ نے رونا شروع کر دیا ،اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور اپنا دامن دیکھیں ۔ شہزاد وسیم نے کہاکہ یہ گریبان کی بات کرتے ہیں،اپنے گریبان تو دیکھیں ،گریباں انہوں نے چھوڑے کہاں ہیں؟۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا ۔
٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں